شعاع ریز

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - شعاع بیز، کرنیں پھیلانے والا، شعاعیں ڈالنے والا آلہ۔ "ایک اچھا شعاع ریز اچھا جاذب اور ناقص شعاع ریز ناقص جاذب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ٨٨٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'شعاع' کے بعد فارسی مصدر 'ریختن' سے صیغۂ امر 'ریز' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٦٦ء کو "حرارت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شعاع بیز، کرنیں پھیلانے والا، شعاعیں ڈالنے والا آلہ۔ "ایک اچھا شعاع ریز اچھا جاذب اور ناقص شعاع ریز ناقص جاذب ہوتا ہے۔"      ( ١٩٦٦ء، حرارت، ٨٨٠ )